بھارتی حکومت نے سرینگر کا نام تبدیل کرکے

بھارتی حکومت نے سرینگر کا نام تبدیل کرکے شیونگر رکھ دیا، جبکہ شیر کشمیر اسٹیڈیم کا نام بھی تبدیل کرکے سردار پٹیل اسٹیڈیم رکھ دیا گیا ہے: مشعال ملک

مودی نے مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت کا صدیوں پرانا نام بھی تبدیل کر دیا، مشعال ملک کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت نے سرینگر کا نام تبدیل کرکے شیونگر رکھ دیا، جبکہ شیر کشمیر اسٹیڈیم کا نام بھی تبدیل کرکے سردار پٹیل اسٹیڈیم رکھ دیا گیا ہے تفصیلات کے مطابق حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیر کی پہچان ختم کرنے کی ایک اور سازش کرتے ہوئے سرینگر کا نام تبدیل کرکے شیونگر رکھ دیا ہے۔
مشعال ملک نے کہا کہ بھارتی حکومت کھیلوں کے میدان کے نام بھی تبدیل کررہی ہے، شیرکشمیر اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرکے سردار پٹیل اسٹیڈیم رکھ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کشمیریوں کی پہچان چھیننے پر تلی ہوئی ہے، بھارت کشمیریوں کی تاریخ مٹانا چاہتا ہے، اقوام متحدہ بھارتی ہٹ دھرمی کا نوٹس لے

مشعال ملک کا مزید کہنا ہے کہ بھارتی حکومت نے تین ماہ سے کشمیریوں کو گھروں میں قید کررکھا ہے، عالمی ضمیر نہ جاگا تو کشمیریوں کی تاریخ تک مٹادی جائے گی۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کی نسل کشی اور کشمیریوں کی پہچان چھیننے کا نوٹس لیا جائے۔ بابری مسجد کیس کے حوالے سے مشعال ملک کا کہنا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کا بابری مسجد کیس پر فیصلہ انصاف کا خون ہے، بھارتی عدالت کے فیصلے سے مودی سرکار کا انتہا پسند چہرہ بے نقاب ہوگیا۔ پاکستان اقلیتوں کومذہبی آزادی اورسہولیات دے رہا ہے جبکہ مودی سرکار نے بھارت میں اقلیتوں پرعرصہ حیات تنگ کررکھا ہے، بھارت کی سب سے بڑی عدالت بھی انتہا پسندوں کے آگے بے بس ہے۔

جموں میں ایودھیا کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تعلیمی دوبارہ کھل گئے

جموں،11نومبر 2019

ایودھیا کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے موقع پر جموں خطے میں احتیاطی طور پر عائد احتیاطی پابندیوں کو ہٹا دیا گیا۔صوبائی کمشنر جموں سنجیو ورما نے نامہ نگاروں سے کہا کہ ہفتے کے روز سے بند رہنے کے بعد پیر کو اسکولز اور کالجز سمیت تمام تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھول دیا گیا ۔ساؤتھ ایشین وائر نیوز ایجنسی کا کہنا

کہ بابری مسجد – رام مندر اراضی تنازع سے متعلق فیصلے سے قبل جموں خطے میں تمام تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔ آج دوبارہ تعلیمی اداروں میں سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں۔

ایودھیا کیس پر فیصلے سے قبل جموں و کشمیر سمیت کئی ریاستوں میں دفعہ 144 نافذ کر دیا گیا تھا۔جموں میں ہفتے کے روز تمام امتحانات کو بھی ملتوی کر دیا گیا تھا۔اس کے علاوہ کئی ریاستوں میں بھی اسکولز، کالجز سمیت تمام تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔القمرآن لائن  کے مطابق صوبائی کمشنر کشمیر بصیر احمد خان نے کہا کہ وادی کشمیر میں آج دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات شیڈول کے مطابق ہونگے

Leave a Reply