مولانا فضل الرحمن کا غصہ، دھرنا اور پس پردہ حقائق

اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن صاحب کے اور عمران خان کے درمیان جھگڑے کے اصل حقائق کیا ہیں تو ایک بار اس پوسٹ کو مکمل ضرور پڑھیں

مولانا فضل الرحمن کا غصہ، دھرنا اور پس پردہ حقائق

اجکل میڈیا اور سوشل میڈیا پر مولانا فضل الرحمن کے دھرنے اور آزادی مارچ کے متعلق خبروں اور تبصروں کا بازار گرم ہے۔حکومتی بوکھلاہٹ کا اندازہ اس سے لگانا مشکل نہی ہے کہ حکومتی سوشل میڈیا ٹیمز اور سرکاری ترجمانوں کی فوج اس مارچ اور دھرنے کو روکنے یا ناکام بنانے کیلئے دھمکیوں اور اخلاق سے گرے ہوئے پروپیگنڈے کا سہارا لے رہی ہے۔ خیر جھوٹ، منافقت اور بےتکی الزام تراشیاں اس حکومت کا طرہ امتیاز اور طریقہ واردات ہے، اب یہ اتنی آسانی سے بدلنے والا تو نہی ہے۔

اخلاق سے گرے ہوئے پروپیگنڈے اور الزامات پر گفتگو کرنا عبث ہے۔ باقی الزامات بھی مولانا پر سیاسی نوعیت کے ہیں جو کہ محض سیاسی بغض اور عناد پر مبنی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آجتک کوئی بھی حکومت یا ادارہ مولانا یا اس کی جماعت پر کسی بھی قسم کی کرپشن ثابت تو درکنار الزام بھی نہی لگا سکا۔ خود تحریک انصاف کی حکومت جس نے اپوزیشن کے تمام سرکردہ سیاسی رہنماؤں کو “سیاسی مقدمات” میں الجھایا ہوا ہے وہ بھی مولانا یا اسکی جماعت کے کسی بھی رہنما کے خلاف کسی بھی قسم کا الزام یا مقدمہ تک درج کرنے سے ابتک قاصر رہی ہے۔

ایک الزام جو مختلف پیرائیوں اور الفاظ میں عمومی طور پر مولانا پر لگایا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ مولانا ہر حکومت کا حصہ رہے ہیں اور اب چونکہ پہلی مرتبہ “اقتدار” سے محروم کردیے گئے ہیں اسلیے وہ “خونخوار” بن کر حکومت کے خلاف صف آرا ہوگئے ہیں تاکہ وہ “کرسی” دوبارہ حاصل کر سکیں اسلئے یہ مارچ اور دھرنا محض اسلام آباد اور کرسی کیلئے ہے۔تو چلیں اس الزام کا جائزہ لیتے ہیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ مولانا کوئی پہلی مرتبہ اسمبلی سے باہر نہی ہوئے، مولانا 1990 اور 1997 کے انتخابات میں بھی منتخب نہی ہوسکے تھے لیکن وہاں ہمیں مولانا اتنے “خونخوار” کبھی بھی نظر نہی آئے جتنے اب نظر آتے ہیں۔ بلکل اسیطرح جہاں مولانا اور اسکی پارٹی کا ہر حکومت کیساتھ اتحاد کا تعلق ہے تو یہ بھی بلکل غلط اور حقائق کے منافی ہے کیونکہ مولانا اپنے تقریباً 40 سالہ سیاسی کیرئیر میں صرف “ڈیڑھ مرتبہ” کسی بھی حکومت کے اتحادی رہے۔ پہلی مرتبہ 2008 میں زرداری حکومت کیساتھ (یہ اتحاد صرف 2 سال کا رہا پھر مولانا اگلے 3 سال اپوزیشن میں رہے) اور دوسری مرتبہ نواز حکومت (2013) کے پورے ٹینیور تک رہے۔ اسطرح مولانا کے حکومتی اتحاد کا مجموعی دورانیہ محض 7 سال ہے جبکہ باقی تمام عرصہ اپوزیشن کا ہے۔ تو یہ الزام کہ مولانا ہر حکومت کا حصہ رہے ہیں بلکل من گھڑت اور بےبنیاد بلکہ محض سیاسی بغض اور عناد پر مبنی ہے۔

مولانا فضل الرحمن صاحب جب ڈی آئی خان کی سیٹ پر ہارے تو مولانا نے اس انتخاب کو “انجنیئرڈ” قرار دیا تھا اور انتخابات پر انتہائی سخت موقف اپنایا تھا جو آج بھی ہے۔ اسی وجہ سے مولانا کو اسوقت بھی منانے کیلئے بنوں کی سیٹ جسے عمران خان نے چھوڑی تھی، آفر کی گئی تھی جسے مولانا نے ٹھکرا دیا اور اس سیٹ پر جمیعت کے ہی ایک کم عمر نوجوان زاہد درانی نے تحریک انصاف کو شکست دی۔ اگر مولانا کو سیٹ چاہیئے تھی تو وہ بڑے آرام سے بنوں کی سیٹ پر کامیاب ہوسکتے تھے کیونکہ پہلے بھی مولانا اسی سیٹ پر کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ اسیطرح ذرائع کے مطابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی نااہلی کے پیچھے بھی یہی راز کارفرما تھا کہ حکومت کچھ سیٹیں مولانا کو افر کررہی تھیں لیکن مولانا نہی مانے اور اسطرح ڈیل نہ ہونے کیوجہ سے قاسم سوری کی سیٹ، عدالت سے “بحال” کروادی گئی۔

تو اب اگر مولانا کو سیٹیں بھی مل رہی ہیں، حکومتی مراعات کی بھی توقع ہے لیکن مولانا “مان” کیوں نہی رہے؟ آخر کچھ تو گڑبڑ یا پھر “راز” ہے؟ آخری ایسی کونسی بات ہے کہ جس پر نہ تو حکومت ڈائیریکٹ اور کھل کر سامنے آرہی ہے اور نہ ہی مولانا؟ ان سوالات کے جوابات کیلئے ہمیں تھوڑا تاریخ اور معروضی حالات پر غور کرنے کی ضرورت ہے، تو آئیے اپنی تاریخ اور موجودہ معروضی حالات کا تھوڑا سا جائزہ لیتے ہیں۔

خلافت کے خاتمے کیساتھ مغربی استعمار نے اسلامی وحدت اور امت کا شیرازہ بکھیر دیا اور چھوٹی چھوٹی اکائیوں کو نااہل مگر اپنے ہم خیال اور ذہنی غلام خاندانوں اور پارٹیوں کے حوالے کرکے “قومی ریاستیں” تخلیق کردیں۔ ان قومی ریاستوں کے قیام اور تصور نے “امت اور خلافت کے تصور” کو کافی نقصان پہنچایا۔ مغربی استعمار نے صرف اسی پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ مسلمانوں کے اصلی “المامیٹر” جسے ہم مدارس کہتے ہیں کو بھی “کھڈے لائن” لگادیا۔ دراصل مغربی استعمار کی تحقیق کے مطابق مدارس ہی مسلمانوں میں علم کیساتھ ساتھ حریت، جہاد، قانون، تربیت اور قائدانہ کردار پیدا کرنے کے اصل ذمہ دار تھے۔ یہی وجہ تھی کہ متحدہ ہندوستان میں انگریزوں کو مسلمانوں خصوصاً مدارس و اہل مدارس کیطرف سے ہی اصل خطرہ اور مخالفت کا سامنا رہا تھا۔ تو بھلا نئی ریاست میں ان کو “آزاد اور “متحرک” کیسے رکھا جا سکتا تھا۔ پھر بھی ان مدارس نے اپنی بساط کے مطابق اپنے علمی اثاثہ کی حفاظت اور مسلمانوں کی علمی و عملی رہنمائی کا فریضہ کبھی نہی چھوڑا۔ یہی وجہ تھی کہ انہی مدارس والوں نے قرارداد مقاصد سے لیکر “اسلامی جمہوریہ پاکستان” تک، حاکمیت اعلی کے تصور سے لیکر قادیانیوں کو کافر قرار دینے تک اور اسلامی نظریاتی کونسل کے قیام سے لیکر اسلامی معاشی اصولوں و بینکاری تک کی کٹھن اور طویل جدوجہد کی اور کبھی ہار نہی مانی۔

مشرف کے دور حکومت میں جب افغان مجاہدین جسے عرفِ عام میں “طالبان” (مدرسے کے طالب علم) کہتے ہیں، کو مغربی استعمار کی خواہش کے مطابق باقاعدہ طور پر “دشمن” قرار دیاگیا تو اس دشمنی کا نزلہ ہمارے مدارس اور اہل مدارس پر بھی خوب گرا اور ان پر دہشتگرد، جاہل اور نہ جانے کیا کیا الزامات لگا کر داد وصول کی گئی۔ مدارس اور اہل مدارس پر نت نئی پابندیاں (انتظامی حوالے سے) لگادی گئیں۔ مدارس کو نام نہاد “قومی دھارے” میں لانے کی زور و شور سے صدائیں بلند ہونے لگیں۔ ویسے “قومی دھارہ” تو ایک بہانہ تھا، اصل میں مدارس کا مکمل کنٹرول (مالی، انتظامی اور نصابی) حاصل کرنا مقصود تھا۔ مدارس کو “قومی دھارے” یعنی مکمل کنٹرول میں لانے کا خیال کسی “نیک مقصد” کیلئے نہی بلکہ امریکی استعمار کی افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں پےدرپے شکستوں اور مستقبل کی “امارت اسلامیہ” کے خوف کو دور کرنے کیلئے تھا۔ اسیطرح کا خوف پاکستان کے مقتدر اداروں/طاقتوں کو بھی لاحق “کروایا” گیا کہ افغانستان میں امریکی شکست کے نتیجے میں “امارت اسلامیہ” کے اثرات بلواسطہ مدارس پاکستانی عوام پر بھی پڑھیں گے اور نتیجتاً پاکستان میں بھی “شرعی حکومت” کی عوامی ڈیمانڈ زور پکڑےگی اور ہوسکتاہے کہ جمہوری طریقہ کار سے پاکستان میں مذہبی جماعت/جماعتوں کی حکومت اجائے اور اگر ایسا ہوگیا تو باقی اسلامی ممالک میں “شرعی نظام/حکومتوں” کو برپا کرنے سے کوئی نہی روک سکے گا اور یوں مغربی استعمار اور ان کے پروردہ حکمرانوں/قوتوں کے ذریعے برپا “New World Order” کا شیرازہ بکھر جائے گا جبکہ “خلافت و امت” کا تصور حقیقت کا روپ دھار لیگا۔

موجودہ حکومت (بشمول مقتدر اداروں) کو اس بات کا ادراک ہوگیا ہے کہ مدارس کا مالی کنٹرول ان کے بس کی بات نہی ہے اسلئے مالی انتظام سے تو کچھ پیچھے ہٹ گئے ہیں لیکن انتظامی اور نصابی کنٹرول حاصل کرنے پر بضد ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت نے یکطرفہ کمیٹی بناکر مدارس کے نصاب میں تبدیلیاں فائنل کردی ہیں اور اگلے سال اسے زبردستی نافذ کرنے کا ارادہ ہے۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ مدارس پہلے ہی کم ازکم بنیادی دنیاوی تعلیم کو نصاب کا حصہ بناچکی ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ مدارس اور ان کے انتظامیہ کو دھونس، دھمکی اور لالچ سے حکومت نے “سرنگوں” کردیا ہے جبکہ دیگر مدارس پر بھی “طبع آزمائی” ہورہی ہے۔ مدارس پر حکومتی کنٹرول کا مقصد ان کو “غیر موثر” کرنا ہے۔ اس ضمن میں ہمارے پاس بہاولپور کے جامعہ اسلامیہ کی مثال موجود ہے کہ جسے حکومت نے اپنے کنٹرول میں لیا اور چن چن کر جید علماء کو وہاں پر لگایا لیکن آج جامعہ اسلامیہ بہاولپور “مدرسہ” کی بجائے محض عام سی “یونیورسٹی” بن چکی ہے۔

موجودہ حکومت نے 14 مہینوں میں جتنا نقصان مدارس، علماء، اسلامی شعائر و عقائد خصوصاً عقیدہ ختم نبوت اور اس سے متعلقہ قوانین کو پہنچایا ہے اتنا مجموعی طور پر پچھلے 72 سالوں میں کوئی نہی پہنچا سکا۔ ان سب میں سب سے خطرناک اور گہرا نقصان مدارس والا ہی ہے کیونکہ مدارس ہی ہماری علمی اساس ہے اگر مسلمانوں کی علمی اساس کو ہی “غیر موثر” کردیا جائے تو پھر “مغربی استعمار” اور ان کے ذہنی غلام نام نہاد حکمران طبقہ ہمارے ملک کا سپین سے بھی برا حال کردیں گے۔ ان تمام سنگینیوں کا مولانا کو اسوقت ہی ادراک ہوگیا تھا جب ملک کے بڑے مذہبی رہنماؤں کو 2018 کے الیکشن میں ایک ساتھ و یکمشت ہروایا گیا۔ مولانا نے پہلے مفاہمت اور افہام و تفہیم سے حکومت کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن حکومت سمجھنے کیلئے تیار نہی ہے۔ حکومت بشمول مقتدر ادارے اس زعم میں ہیں کہ اب تو میدان خالی ہے اور روکنے والا کوئی خاص نہی۔ انہی وجوہات کی بنا پر مولانا نے عزیمت کا راستہ اختیار کیا اور حکومت کو 15 میلین مارچیز سے باور کرانے کی کوشش کی کہ میدان خالی نہی لیکن دوسری طرف حکومت مغربی استعمار کے ایجنڈے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہی۔

اس لحاظ سے آزادی مارچ اور دھرنے کا پہلا پلان/ مقصد موجودہ حکومت کا گرانا ہے تاکہ مغربی استعماری ایجنڈے کا پورا راستہ روکا جاسکے، دوسرا پلان/مقصد، عمران نیازی کو ہٹانا ہے، تیسرا پلان/مقصد (کم ترین درجہ) “مقتدر اداروں” سے مدارس اور شعائر اسلام و عقائد خصوصاً عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کی گارنٹی لینی ہے۔

موجودہ صورتحال اس امر کا متقاضی ہے کہ اسلام پسند اور مدارس کیلئے نرم گوشہ رکھنے والا ہر مسلمان، مولانا فضل الرحمن کی آواز پر لبیک کہے اور آزادی مارچ و دھرنے میں بھرپور شرکت کرکے حکومت کو اسلامیان پاکستان کی آواز سنائیں کہ یہ ملک اسلام کیلئے بنا ہے اور اسلام و مدارس اور اسلامی شعائر و عقائد اور قوانین کی ہر صورت حفاظت کی جائے گی۔

نوٹ: گزارش ہے کہ اس تحریر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ مولانا فضل الرحمن صاحب کے آزادی مارچ اور دھرنے کے خلاف پروپیگنڈے کو شکست دیکر عام مسلمانوں کو حقائق سے روشناس کرایا جاسکے۔
جزاکم اللہ خیرا۔

Leave a Reply