شملہ معاہدہ کیا ہے

شملہ معاہدہ

شملہ معاہدے کے حسب ذیل مضمرات نے تحریک آزادی کشمیر پر منفی اثرات مرتب کئے۔

28 جون 1972 اندرا گاندھی اور زوالفقار علی بھٹو
نے نہایت مہارت سے مسئلہ کشمیر کو عالمی مسئلے کی فہرست سے نکال کر دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعہ کی حیثیت دیدی اور پاکستان کو پابند کیا کہ
وہ اس مسئلے کو کسی عالمی فورم پر نہ اٹھائے گا۔
مسئلہ کشمیر کو نہایت بے رحمی کے ساتھ پاکستان بھارت تعلقات کی بہتری کیلئے سرد خانے کی زینت بنا دیا گیا۔

[ 1 ] یہ معاہدہ کشمیر کے اصل وارثوں یعنی کشمیریوں کو مسئلہ کشمیر کا فریق ہی نہیں سمجھتا ۔

[ 2 ] یہ معاہدہ کشمیریوں کے مسلمہ حق خودارادیت کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ مسئلہ کشمیر کو دو ملکوں کے مابین سرحدی جھگڑا سمجھتا ہے ۔

[ 3 ]یہ معاہدہ کشمیریوں کو عالمی رائے عامہ کی حمایت سے محروم کر دیتا ہے کیونکہ عالمی رائے عامہ ایک مظلوم اور محکوم قوم کے حق آزادی کی حمایت تو کرتی ہے لیکن اسے دو ملکوں کے مابین علاقائی تنازعہ سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اس لیے شملہ معاہدے کے بعد عالمی رائے عامہ نے چپ سادھ لی ۔

[ 4 ] اس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں نے عہد کیا کے کنٹرول لائن کے دونوں طرف اٹھنے والی تحریکوں کو ختم کیا جائے گا ۔یہی وجہ ہے کے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں شملہ معاہدے کے بعد آزادی پسندوں کی پکڑ دھکڑ  اور تعذیب و تشدد کا سلسلہ بیک وقت شروع کیا گیا ۔

[ 5 ] پاکستان نے بھارت سے آئندہ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا جس سے کشمیریوں کو سخت مایوسی ہوئی

[ 6 ] اس معاہدے کی دفعہ 4 شق 2 کےتحت سیزفائرلائن( عارضی جنگ بندی لائن ) کو کنٹرول لائن  ( مستقل سرحد ) تسلیم کیا گیا یہ الفاظ کشمیر پر بھارتی قبضے کو درست اور جائز تسلیم کرتے ہیں

[ 7  ]اس معاہدے کی رو سے تحریک آزادی کے لیے پروپیگنڈہ بند کرنے کا فیصلہ ہوا چنانچہ پاکستان کے ذرائع ابلاغ کےلیے تحریک آزادی کشمیر شہر ممنوعہ بن گی ریڈیو آزاد کشمیر بھی خاموش کر دیا گیا

[ 8 ] اس معاہدے کی رو سے پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر نہ اٹھانے کا فیصلہ کیا چنانچہ آج تک پاکستان نے اس معاہدے کی پابندی کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ غیر جانب دار تحریک اسلامی کانفرنس یا کسی بین الاقوامی میں خود پیش نہ کیا ۔

[ 9 ] شملہ معاہدہ کی آخری شق کہا گیا کہ جموں کشمیر کے تنازعہ کو حل کرنے کے لیے پاکستان اور بھارت مناسب وقت پر مذاکرات کریں گے اس سے مسئلہ کشمیر دونوں ملکوں کے باہمی مذاکرات کی نذر ہوگیا۔زرا دوست اس کو ایک بار پڑھ لینا پردہ داری کیا ھے اندھی تقلید والوں کو کیا بول سکتے ھیں..

Leave a Reply