سچ کہا تھا ایک فقیر نے مجھ کو کہ تجھے یار ملے گا مگر تڑپنے کے لیے

‏خود سے لڑتا ہوں بگڑتا ہوں منا لیتا ہوںمیں نے تنہائی کو اِک کھیل بنا رکھا ہے

وہ جو چاہے تو کیا نہیں ممکن
وہ نہ چاہے تو کیا کرے کوئی!

یوں ہی قبروں میں نہیں سوتے تھکے ہارے بدن. لوگ دنیا سے نبھاتے ہوئے تھک جاتے ہیں..

چاند آج یوں رو برو ہے میرے
جیسے تم بے نقاب بیٹھی ہو

قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اُتارو
ہم لوگ محبت کی کہانی میں مرے ہیں

ان دنوں ذرا احتیاط سے رہنا ہمدم
عشق اسی موسم میں شکار کرتا ہے

آپ اپنے شوق پورے کیجئے صاحب
ہم اپنی زندگی کے دن پورے کرتے ہیں

کم بخت مانتا ہی نہیں دل اسے بھلانے کو
میں ہاتھ جوڑتا ہوں تو وہ پاؤں پڑ جاتا ہے

دل نے کہا بھی تھا مت چاہ اسے پاگلوں
کی طرح۔
وہ مغرور ھو جائے گا تیری محبت کی انتہا
دیکھ کر۔

بہت نزدیک رہ کر بھی ، انائیں ایک جیسی ہیں
تکلف وہ نہیں کرتے ، مخاطب ہم نہیں کرتے..

نہ خوشی کی تلاش ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہ غمِ نجات کی آرزو..!
میں خود سے بھی ناراض ہوں تیری ناراضگی کے بعد…!!!

تیری ہی یاد میں گزر جاتی ہے
وہ جسے لوگ رات کہتے ہیں..

ہر موڑ پہ مل جاتا ھے ہمدرد کوہئ
واہ محسن تیری بستی میں اداکار بہت ہیں

اجڑ اجڑ کے بھی جاتا ہوں یار کی جانب
سنا ہے جل کے بھی رسی کے بل نہیں جاتے

وہ پاس رہ کر بھی فاصلوں کا قائل تھا ،،،
اس اہتمام کو پھر داستان تو ہونا ہی تھا،،

Leave a Reply