​کب تک آنکھوں میں کچھ گر جانے کا بہانہ کروں میں​

​کب تک آنکھوں میں کچھ گر جانے کا بہانہ کروں میں​
​لو آج سرعام کہتا ہوں میں تمہیں یاد کر کے روتا ہوں

کوئی گلہ نہیں ہے مجھے تمھارے نا یاد کرنے کا؎
”دوست“
اجڑے ہوئے چمن کو تو پرندے بھی چھوڑ جاتے ہیں؎

‏مانا کہ بہت قیمتی ہے آج تیرا __یہ وقت
ہم بهی بڑے نایاب تهے ابهی کل کی بات ہے.

‏یہ ضروری نہیں کہ تم سامنے ھو تو ہی ھوش اڑیں❤
ھم تو تمہیں سوچ کر بھی پاگل سے ہو جاتے ہیں❤

پھر مرے سامنے اسی کا ذکر
آپ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے_!!
جون ایلیاء🔥

پھر یوں ہوا کہ کٹ گئی تیرے بغیر بھی.
اُجڑی ہوئی ، لُٹی ہوئی ، ویران زندگی.

پہلا سا وہ جنون محبت نہیں رہا ۔۔۔۔کچھ کچھ سنبھل رہے ہیں تمہاری دعا سے ہم ۔۔۔

تربیت ہونٹوں کی زنجیر بنی بیٹھی ہے محترمہ۔۔
یہ نہیں کہ مجھے بولنا نہیں آتا۔

پریشان ہیں اسکی یاد میں کچھ اس طرح
کہ دن کو دل نہیں لگتا اور رات کو آنکھ نہیں لگتی

جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام تِرے
اے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے۔۔۔!!

خلوص عشق کبھی رائیگاں نہیں جاتا.
میں کیسے مان لوں تجھکو میرا خیال نہیں آتا.

خلوص عشق کبھی رائیگاں نہیں جاتا.
میں کیسے مان لوں تجھکو میرا خیال نہیں آتا.

دل میں حسرت ہے کہ سزا دوں تجھے
کھو جاؤں تجھ میں اور نہ ملوں تجھے

Leave a Reply