کاش کوئی ایسا کمال ہو جائے کمبخت عشق کا انتقال ہوجائے

رات کو یہ شور اٹھا کہ دو چاند ہیں.
تیرا چھت پہ ٹہلنا ضروری تھا کیا.

جس طرح ٹوٹ کے گرتی ہے زمیں پر بارش
اس طرح خود کو تیری ذات پہ مرتے دیکھا.

اپنی سانسوں کے دامن میں چھپا لو مجھ کو
تیری روح میں اُتر جانے کو جی چاہتا ہے

‏مجھکو سارے ہی چھوڑ جاتے ہیں
تم  میرے  ساتھ  کچھ  نیا  کرنا

کاش کوئ ایسا کمال ہو جاۓ.
کمبخت عشق کا انتقال ہو جاۓ.

ترسو گے تم بھی ایک دن یہ سوچ کر۔
وہ اپنا بھی نہ تھا اور احساس بھی اپنوں سے زیادہ کرتا تھا۔

کہانی ختم ہوئی میری ذات کی
مبارک ہو تم کھیلے بہت خوب

تیرے دیدار کی طلب میں جاناں
پھرتی ہیں آنکھیں بکھاری کی طرح

کِتھے تیرے باج گُزارے ہونـدِن
بس دِل نوں لارے لائی ودے آں.

مجھے بدلے سے کیا مطلب،
تمھیں تو کھو چکا ہوں نا

کچھ ایسا ہو کہ  سبھی رابطے کٹ جائیں
رگیں دماغ کی ایک حادثے میں پھٹ جائیں

بڑا مزہ ہو جو محشر میں ہم کریں شکوہ
وہ مِنتوں سے کہیں چپ رہو خدا کے لیے

محبت اک احساس ہے.
جو ہر کسی میں موجود نہیں ہوتا.

نہیں کوئی ضرورت یاد رکھنے کی ہمیں..
ہم خود ہی یاد آئیں گے جہاں ذکر وفا ہو گا..

بے رخی آپ کی سر آنکھوں پر.
یوں زلیل کرنے کا سو بار شکریہ.

منزلوًًًں کے نشاں تو.مجھ سے  بہت پیچھے رہ گئے
محبت کے سفروں میں زندگی کو الوداع  کر    آیا

درد کی قدر ہم کیا جانیں
اے دوست
ہمیں سارے مفت ملے ہیں

چن چن کے دے رہے ہیں درد یوں دنیا والے
گن گن کے جیسے لی ہو خوشی ہر کسی سے ہم نے

آج خود کو آئینہ میں دیکھا تو یہ احساس ہوا
انسان کتنا بدل جاتا ہے دل ٹوٹنے کے بعد

جس یاد میں تیری یاد نہیں
کیا یاد ہے وہ کچھ یاد نہیں
تری یاد میں سب کچھ بھول گیا
کیا بھول گیا کچھ یاد نہیں​

Leave a Reply