آج خود کو آئینے میں دیکھا تو یہ احساس ہوا انسان کتنا بدل جاتا ہے دل ٹوٹنے کے بعد

مجھ کو منظور تیرے نام کی تہمت
تم پہ مرتے ہیں صاف کہتے ہیں

ہمیں کیا پتا تھا کہ زندگی اتنی انمول ہے.
کفن اوڑ کر دیکھا تو نفرت کرنے والے بھی رو رہے تھے.

‏تیرے رابطے میں وقفے، تیری بھولنے کی عادت.
کہیں دور نہ ہو جانا، یوں ہی دور رہتے رہتے.

اگر ،مگر اور کاش میں ھوں
میں خود بھی اپنی تلاش میں ھوں۔

پھول کاڑھے پھر اُن کو پانی دیا،
میں نے تکیے پہ باغبانی کی!

آپ کو چاہئے تو رکھ لیجئے
اب میں اپنا قدرشناس نہیں۔

‏کوئی تماشہ ہی سمجھ لو مجھے
دو گھڑی دیکھ لو …. مری جانب

‏ہمارا وقت ہو جائے گا پورا
کلائی پر گھڑی باقی رھے گی

میں مانگ رہا تھا تجھ کو خدا سے.
مجھے یاد آ گئیں پھر مجبوریاں تیری۔

وہ تہمت جو لگاتے ہیں مجھ پر
میرے صبر کی مار کھائیں گے

زرا سے دیکھو تو آئے گی نظر جنت
جہاں نقشے میں میری جان کشمیر لکھا ہے

مُجھے مَعلُوم تھا یہ سبَب میرا وَج٘دان کہتا تھا
اِک حَادثہ دَرپیش ہونا ہَے مُجھے دَرویش ہونا ہے

میں نے پرکھا ہے اپنی سیاہ بختی کو
میں جسے اپنا کہہ دوں وہ میرا نہیں رہتا

دُوری کی مجبوری ہے صاحب ورنہ
بِن آپ کے چائے بھی کہاں اچھی لگتی ہے

چند چسکیوں میں زندگی جینا چاہتا ہوں
تمہارے لبوں سے لگی چائے پینا چاہتا ہوں

عورت صرف دو جذبوں کی طلبگار ہوتی ہے عزت اور محبت
اس سے ذیادہ اسکی کوئی خواہش نہیں ہوتی

دنیا کب چپ رہتی ہے.
کہنے دے جو کہتی ہے.

مجھے تیرا ساتھ ، زندگی بھر کا نہیں چاہئے
بلکہ جب تک تو ساتھ ہے ، تب تک زندگی چاہئے

ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ‎ ‎ﺩﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﮎ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺻﺪﺍ ﮬﻮﺗﯽ ﮬﮯ
ﺍﺏ‎ ‎ﺗﻤﮩﯿﮟ‎ ‎ﮐﯿﺎ‎ ‎ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯿﺎ ﮬﻮﺗﯽ ﮬﮯ

اک دن تیرا رونا کسی کام کا نہیں ہوگا
جب تجھ پر مرنے والا ہی مر جاۓ گا

تیرے بعد نظر نہیں آتی مجھے کوئی منزل
کسی اور کا ہونا میرے بس کی بات نہیں.

ہم بدنصیب لوگ کسی کو کیا یاد آئیں گے
ہم تو درد لے کر بھی مسکرانے کی ادا رکھتے ہیں

ارے کون کہتا ہے محبت کافر بنا دیتی ہے
مجھے سجدے میں رونا محبت نے سکھایا ہے.

لوگ تو مرتے ہے حسن پر
ہمارا دل تو تیری،،،گفتگو پر مرتا ہے

خوبصورت ترین لمحہ،
جب آپ کسی کی آنکهوں میں خود کے لیـے دیوانگی دیکهتے ہیں

Leave a Reply