بااختیار ریاست خواب خورشید۔

بااختیار ریاست خواب خورشید۔

دیو مالائی داستانوں، عناد و فساد سے پر آنکھوں کو خیرا کر دینے والے قدرتی حسن سے مالا مال ہجوم نما انسانی بستیوں کی دھرتی منقسم ریاست جموں و کشمیر اقصائے تبت ہا میں بے شمار انسانوں نے اپنے منفی و مثبت کردار کی وجہ سے تاریخ میں جگہ پائی، کہیں اس کی حرمت پر کٹ مرے کہیں حق کا علم تھامے گزر گئے کہیں اس میں حق و انصاف کی جدوجہد میں اجڑ گئے اور کہیں نفسانی خواہشات کے تابع نظام کو چونا لگا کر مال و مفاد کی خاطر اس کی تاریخ کو سیاہ کر گئے اس کے سینے کو چھلنی کر گئے۔

انسان آتے رہے منظر بدلتے رہے لیکن تاریخ نے صرف انہی کو یاد رکھا جو اس دھرتی پر اپنا آج دوسروں کے کل پر نچھاور کر گئے۔ 16 مارچ 1846ء کو ریاست کی تشکیل پھر 22 اکتوبر 1947ء کی تقسیم کے بعد منقسم ریاست کی جدید تاریخ کبھی جناب خورشید الحسن خورشید المعروف کے ایچ خورشید یا خورشید ملت کے ذکر کے بنا مکمل نہ ہو سکے گی اگر یہ کہا جائے موجودہ منقسم ریاست کو تشکیل دینے والے مہاراجہ گلاب سنگھ اور اس میں بے تحاشا اصلاحات کرنے والے حکمران مہاراجہ ہری سنگھ کے بعد اس ریاست میں سیاستدان تو بڑے آئے لیکن ریاست کار صرف ایک آیا جس نے منقسم ریاست کی تقسیم و وجہ غلامی کو سمجھا اس کا ممکنہ سیاسی حل جانا اور اس سے نکلنے کا سہل ترین راستہ بھی دکھایا تو بے شک ذہن میں بشمول گلگت و بلتستان آزاد جموں و کشمیر کو بااختیار تسلیم کرنے کے ویژن کے خالق کے ایچ خورشید کا نام گونجتا ہے۔

اگر ساٹھ کی دہائی میں آزاد خطے کے پہاڑی سیاستدان اور پاکستانی پالیسی ساز اس ویژن کے راستے میں رکاوٹ نہ بنتے تو شاید جموں سے لداخ اور کشمیر وادی سے گلگت و بلتستان تک ایک  بھی گولی نہ چلتی، نہ انسانی جان جاتی نہ آبرو لٹتی نہ آہ و زاری ہوتی نہ درد ہوتا نہ کرب ہوتا اور یہ ریاست یا آزاد ہو جاتی یا پھر اقوام عالم میں اپنی نمائندہ حیثیت تسلیم کروا کر اس دور کی حاصل شدہ حیثیت سے کروڑ ہا گنا بہتر ہوتی اس کے نمائندوں کا دنیا میں کوئی وقار معیار ہوتا ان کی بات کی کوئی شنوائی ہوتی کوئی داد رسی ہوتی، لیکن بدقسمتی سے یہ نرالے لوگوں کی انوکھی دھرتی ہے جہاں معیاری پر غیر معیاری کو ترجیح ہے فلاسفر پر جاہل کو ترجیح ہے سچ پر جھوٹ کو ترجیح ہے۔ مذہبی بغاوت، قتل غارت گری، آبرو ریزی، عورتوں کے اغوا، ظلم و جبر کے نتیجے میں تشکیل پانے والی اس اڑھائی اضلاع کی عظیم ترقی یافتہ ریاست میں ہر وہ شخص معتوب ٹھہرا جس نے سچ کی تلقین کی حق کی راہ دکھائی چونکہ یہاں جھوٹ بکتا ہے یہاں انصاف بکتا ہے قانون بکتا ہے معیار بکتا ہے ہم نے رہبر کی جگہ رہزن چنے اور قدرت نے ہمیں اس دھرتی سے غداری، ظلم و ستم، بددیانتی بدنیتی عناد و فساد اور تاریخ کی حرمت لوٹنے کی سزا دی جو آج ہم ریاست کے طول و عرض میں بھگت رہے ہیں۔

یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کے جناب خورشید ملت کے نظریے و فکر کے خلاف سب سے پہلے خطے کے پہاڑی سیاستدان اور مذہبی بنیادوں پر ریاستی تقسیم کی ذمہ دار اختیار و خطہ پاکستان کو منتقل کرنے والی ماضی کی ایک جماعت مسلم کانفرنس کھڑی ہوئی اور پاکستانی پالیسی ساز کھڑے ہوئے اس مدبرانہ سوچ کو علیحدگی پسندی اور غداری کے القابات دئیے گئے جناب کے ایچ خورشید کو مظفرآباد کے ایوان صدر سے جانا پڑا، بدقسمتی سے مظفرآباد کے ایوان صدر کو اس کے بعد کبھی کوئی خورشید نصیب نہ ہو سکا البتہ مفاد پرست ٹھگ و لٹیرے اس کا مقدر ضرور بنے جنھوں نے اپنی ابن الوقتی، مفاد پرستی اور ہیرا پھیریوں سے دھرتی کو شرما دیا۔

دانا درست کہتے ہیں کے تاریخ اپنا انتقام لیتی ہے تاریخ اپنے مجرموں کو سزا دیتی ہے اور تاریخ دھرتی فروشوں کو نشان عبرت بناتی ہے اور یہی وجہ ہے کے جموں تا لداخ، کشمیر وادی تا گلگت و بلتستان اس دھرتی کے باشندے اپنے اعمال کی سزا بھگت رہے ہیں دھرتی سے اپنی دغا بازیوں کی سزا بھگت رہے ہیں، ریاست توڑنے کی سزا بھگت رہے ہیں، ہم وطنوں کو مارنے کی سزا بھگت رہے ہیں، اختیار بیچنے کی سزا بھگت رہے ہیں، غلامی مانگنے کی سزا بھگت رہے ہیں، مفاد پرستی کی سزا بھگت رہے اور یہ سزا تب تک جاری و ساری رہے گی

جب تک اس دھرتی سے بلا تخصیص مذہب و نسل، بلا تخصیص رنگ و لسانیت بنا گولی چلائے یک زبان یک آواز ہو کر مکمل آزادی کا نعرہ نہیں لگتا، کشمیری، جموں وال، لداخی، گلگتی، بلتی کا تعصب ختم نہیں ہوتا وگرنہ دنیا کی کوئی قوت ریاست کو محکومیت و غلامی سے نہیں نکال سکتی اور یہ بھی ممکن ہے یہ مستقل بنیادوں پر تقسیم ہو کر اپنا وجود کھو بیٹھے پھر نہ کسی کا فخر رہے گا نہ غرور نہ ہی جداگانہ شناخت نہ منفرد تاریخ نہ الگ الگ ثقافت پھر آزاد جموں و کشمیر اور گلگت و بلتستان کا مقدر حقوق سے محرومی اور دوسرے درجے کی شہریت اور مقبوضہ جموں، کشمیر اور لداخ کا مقدر ظلم سہنا اور دہلی کا تیلی لیفٹیننٹ گورنر ہو گا۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کے اقوام عالم کسی قوم کے حق خودارادیت کی حمایت تو کر سکتی ہیں لیکن دو ممالک کے سرحدی تنازعے، الحاق کے نعرے میں فریق نہیں بن سکتی فلسطین کی مثال موجود ہے جس کے اکثریتی رقبے پر اسرائیل کا وجود قائم ہے اور اسرائیل کے بے تحاشا بین الاقوامی اثر رسوخ کے باوجود دنیا پھر بھی فلسطینی قوم کے حق خودارادیت کے ساتھ کھڑی ہے اور فلسطین کو دنیا کے بیشتر اداروں میں یا تو مبصر کا درجہ حاصل ہے یا پھر اس کو رکنیت دی گئی ہے اسی طرح دنیا کے بیشتر ممالک نے اسے بطور ریاست تسلیم کر رکھا ہے اس کے سفارتخانے وہاں قائم ہیں اور دنیا کی بڑی طاقتیں بھی دو ریاستی منصوبے کے ساتھ کھڑی ہیں جلد یا بدیر فلسطین اپنا وجود منوا کر رہے گا جبکہ متنازعہ و منقسم ریاست کے سارے رقبے پر ریاستی باشندوں کی آباد کاری ہونے کے باوجود ہندوستان کے دنیا میں اسرائیل جتنا اثر رسوخ نہ رکھنے کے باوجود ہم 1947ء کی تقسیم کے بعد باوجود کوششوں و قربانیوں کے اپنے مسئلے کو ایک اِنچ آگے نہ بڑھا سکے بلکہ شملہ معاہدے کے بعد ریاست کا تنازعہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے باب چھ سے بھی باہر کر دو ممالک کا سرحدی تنازعہ قرار پایا۔

یہ طے ہے کے شملہ معاہدے کی موجودگی میں اس مسئلے میں نہ تو دنیا کا کوئی ملک مداخلت کرے گا نہ ہی یہ مسئلہ آگے بڑھے گا خواہ کشمیر وادی سے لداخ جموں تک پوری ریاستی آبادی کٹ مرے نہ ہی یہ ریاست ہندوستان جوہری ملک پاکستان سے جنگ میں چھین سکتا ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے کے پاکستان معاشی لحاظ سے مضبوط اپنے سے دس گنا بڑے جوہری ہندوستان سے چھین کر اپنا حصہ بنا لے

اس کا واضح ثبوت مودی سرکار کے 5 اگست 2019ء کے اقدامات ہیں جس میں انہوں نے سرعام ریاستی جغرافیے کو دو حصوں میں بانٹ کر پوری ریاست کو جیل میں تبدیل کر رکھا ہے لیکن پوری دنیا اس پر خاموش ہے کسی ایک ملک نے سوائے ایک آدھ ہمدردی کے بیان کے ان اقدامات کی مذمت نہیں کی نہ دباؤ ڈالا کے ہندوستان غیر آئینی غیر قانونی اقدام کو واپس لے چونکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے مجاز اس کے باشندے ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کے ہمارا مستقبل کیسے سنور سکتا ہے ریاست کی دو تہائی آبادی کو ظلم سے نجات کیسے مل سکتی ہے کیسے دنیا ہمارے حق خودارادیت کے حق میں کھڑی ہو سکتی ہے تو اس کا ایک ہی حل ہے کے آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کو بشمول گلگت و بلتستان پوری ریاست جموں و کشمیر اقصائے تبت ہا کی نمائندہ حکومت کا درجہ ملے

جو 22 اکتوبر 1947ء کے قبائلی حملے کے وقت اور پھر 27 اکتوبر 1947ء کو ہندوستان کے ریاست میں داخلے کے وقت مہاراجہ ہری سنگھ کی راج میں موجود تھی۔ ریاست کی نمائندہ حکومت ایک غیر مسلح غیر مذہبی قومی مزاحمتی تحریک کی کی قیادت کرے جس کا جھنڈا الگ اور نعرہ آزادی و حق خودارادیت ہو اور اسے تمام ریاستی اکائیوں کی مکمل حمایت حاصل ہو۔ یہ ممکن نہیں کے جموں، لداخ کے لوگ ہندوستان کے ساتھ مذہبی بنیادوں پر کھڑے ہوں کشمیر وادی آزادی مانگے آزاد جموں و کشمیر پاکستان مانگے، گلگت و بلتستان والے سب کو اپنے حقوق کا غاصب قرار دے کر اسلام آباد کو صوبہ بنانے کے ترلے کریں اور دنیا اس خطے کی آزادی یا الحاق ہندوستان و پاکستان کی تحریکوں کی حمایت کرے۔

سوال یہ ہے دنیا الحاق پاکستان کی حمایت کر کے دنیا کی ابھرتی معاشی طاقت ہندوستان سے اپنے تعلقات خراب کیوں کرے؟ اسی طرح دنیا الحاق ہندوستان کی حمایت کر کے پاکستان سے دور کیوں ہو؟ سوال یہ بھی ہے ہم نے مذہب کے نام پر جس جنگ کا بیڑا اٹھا رکھا ہے ریاست میں بسنے والے ہندو، سکھ، بدھ مت اس کا ساتھ کیوں دیں؟ وہ ہندوستان کے ساتھ مذہبی بنیادوں پر کیوں نہ جائیں؟ سوال یہ بھی ہے کے کیا مذہب و الحاق پاکستان کے نام پر بندوق کی جدوجہد میں کسی اسلامی ملک نے ہمارا ساتھ دیا؟ کیا دنیا نے آج تک پاکستان کے ریاست پر دعوے کو کوئی اہمیت دی کیا دنیا کا کوئی طاقتور ملک 1947ء سے آج تک پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے؟ کیا سلامتی کونسل کے باب چھ سے باہر کر کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریروں، اخباری بیانات، ٹی وی چینلوں پر تبصروں سے ہندوستان ریاست سے انخلا کر کے پاکستان کے حوالے کرے گا؟

ایک طرف کشمیر بنیگا پاکستان کے نعرے کے ساتھ شہ رگ کی گردان دوسری طرف ریاست جموں و کشمیر اقصائے تبت ہا کے حق خودارادیت کی حمایت کا اعلان ( جسے 5 جنوری 1949ء میں ہندوستانی تائید کے ساتھ ختم کر کے دو ممالک میں سے ایک چننے کے ساتھ مشروط کیا گیا جس کی توثیق شملہ میں ہوئی) دنیا ان دو میں سے کون سے بیانیے کے ساتھ کھڑی ہو؟ اس ساری صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ کے ایچ خورشید کا وہ خواب ہے جو انہوں نے دیکھا، قوم کے ساتھ پیش کیا اور اب وقت آن پہنچا ہے کے اسلام آباد اپنی وکالت سے دستبردار ہو کر ہماری تحریک کا اختیار، حکومت کا اختیار ہمارا خطہ

Leave a Reply