وہ بڑے گھر سے تھے صاحب چھوٹے سے دل میں کیسے رہتے‎

وہ بڑے گھر سے تھے   صاحب
چھوٹے سے دل میں کیسے رہتے‎

میں اُس سے گفتگو کرتا رہا ہوں ہر لمحہ
اور اُن دنوں میں بھی ، جب اُس سے رابطہ ہی نہ تھا

نہ جانے آخر اتنا کیوں درد دیتی ھے مُحبت۔۔۔
ہنستا ہوا انسان بھی دعاٶں میں موت مانگتا ھے۔۔۔۔

‏وفائیں مانگتے پھرتے ہیں فقیروں کی طرح
عجیب لوگ ہیں کہتے ہیں,,, محبت کی ہے

دکھ ہوا آج دیکھ کر اس کو
وہ تو ویسی ہی خوبصورت ہے

کہہ رہا ہے یہ بہار کا موسم
ہمسفر ہو کوئی تیرے جیسا

نفرت وہ چیز ہے جسے لمحے میں محسوس کیا جاتا ہے
اور محبت وہ چیز ہے جس کو ثابت کرنے میں زندگی گزر جاتی ہے۔

کوئی سزا سنانی ہے تو سنا سکتے ہو
.گستاخ نگاهوں نے آج پهر تیرا خواب دیکها ہے

چلو چھوڑو صبح صبح دنیا کی باتوں کو
صاحبیہ بتاؤ خیریت تھی جو رات خواب میں چلے آئے.

ہم نے سمجها کہ آزمائش ہے.
وقت تو فیصلے کیے بیٹها تها

وہ بڑے گھر سے تھے   صاحب
چھوٹے سے دل میں کیسے رہتے‎

وہ مرے ساتھ نہ چل پائے گا
اُس کے چلنے سے پتہ چلتا ہے

اچھا کیا۔۔برا ہی سہی۔
وہ ہمارے بارے ث سوچتے تو ہیں۔

مدت لگی سنوارنے میں خود کو۔
مل کے اس سے پھر بکھرا ہو

وصل یار سے واپس آرہا  ہوں۔
اپنے گھر کو جا رہا ہوں

تیری قربت میں
جنت سا احساس ہو

گزرے لمہے میں سب پاس تھا۔
اک گھری ہوئی کے پھر اجڑے۔

تم ہو آغوش میں مگر پھر بھی
دِل نہیں لگ رہا مرا جاناں جون

اب کیا فریب دیجیے اور کس کو دیجیے
اب کیا فریب کھائیے اور کس سے کھائیے
سرکار جون ایلیا

دروازہ  چھوٹا ہی رہنے دو اپنے مکان کا
جوجھک کے اندر آئے گا سمجھو وہی اپنا ہے

نہ پوچهو کیا گزرتی ہے جدا جب یار ہوتے ہیں.
کہ آنسوں تیر بن کر جگر کے پار ہوتے ہیں.

ڈھونڈو گے جب اُجڑے رشتوں میں وفا کے خزانے
تم میرے بعد میرے ہم ناموں کا بھی احترام کرو گے

خرید رہا تھا محبت کی چادر عشق” کے بازار سے.
اے دل ہجوم سے آواز آئی کفن بھی لیتے جانا, اکثر یار بیوفا ہوتے ہیں

Leave a Reply