90سالہ کشمیری والد19سال سے بھارتی فوج کے..

90سالہ کشمیری والد19سال سے بھارتی فوج کے ہاتھوں مغوی ہونے والے اپنی بیٹی کی بازیابی کامنتظر خالد شبیر

*کشمیری باپ اپنی مغوی بیٹی کو دیکھنے کے لئے 19سال سے منتظر ڈوڈا ضلع کی تحصیل کاستی گڑھ کے گائوں دھار ، کے رہائشی ، غلام محمد بٹ بھارتی فوج کی اس بے رحمی کے زندہ گواہ ہیں جب جموں و کشمیر کے اس سابقہ ضلع میں ان کی 16 سالہ بیٹی کو ایک وحشیانہ کاروائی میں فوجی ہلکاروں نے دو مقامی پولیس اہلکاروں (ایس پی او) کی مدد سے اغوا کیا ۔90 سالہ  غلام محمد بھٹ ، خستہ حال سنگل اسٹوری مٹی کے مکان میں رہتے ہیں ۔انہوں نے مقامی اردو  ہفت روزہ وار اخبار ، سدہ کوہسار میں 22 اپریل 2003 کو شائع ایک خبر نامہ نگار کو دکھائی جس میں ان کی بیٹی کی تصویر تھی۔ غلام محمدنے بتایا کہ ان کی بیٹی کا نام ممتاز تھا۔ اس نے 2000 کے ابتدائی مہینوں میں دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا ۔ ممتاز اپنے گاں سے روزانہ ایک گھنٹہ فاصلہ طے کرکے تک کاسٹ گڑھ میں اپنے اسکول تک جاتی تھی ۔ وہ انگریزی زبان سیکھنے کے جنون میں مبتلا تھی اور ایک استاد بننا اس کا خواب تھا۔غلام محمد کے دو بیٹے گجرات کے ایک مدرسے میں زیر تعلیم تھے اور دیگر دو بیٹیاں شادی شدہ تھیں اور دور دیہات میں الگ رہائش پذیر تھیں۔3 جون 2000 کو جب غلام محمد اپنے دو بیٹوں کے ساتھ اپنے ریوڑ کو چرانے کے لئے دور دراز جنگل میں تھے، سولہ سالہ ممتاز بانو اور 19 سالہ فریدہ بانو گھر کی دیکھ بھال کے لئے اپنی والدہ زونا بیگم کے ساتھ گھر پر موجودتھیں۔سہ پہر دو ایس پی او اہلکار 10 راشٹریہ رائفلز (آر آر) کے فوجی جوانوں کے ساتھ معمول کے گشت پر آئے۔ ان کے گھر سے گزرتے ہوئے ، فوجیوں نے ان کے دوکتوںکو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا۔ممتاز اور فریدہ نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے ان کتوں کو کیوں مارا ، تو فوجی جوانوں کا کہنا تھا کہ جب بھی وہ گائوں سے گزرتے تھے ،

کتے ان پر بھونکتے تھے  اور اس سے شدت پسندوں کو اس علاقے سے فرار ہونے میں مدد ملتی تھی۔لیکن کنبے کے افراد کو ابھی تک معلوم نہیں تھا کہ ان پر کیا قیامت ٹوٹنے والی ہے ۔ 4 جون 2000 کو ، جب غلام محمد اور اس کے دو بیٹے اپنے ریوڑ کو چرانے جنگل میں تھے ، اچانک ، انکے گھر کے دروازے پر زور سے دستک ہوئی۔غلام محمد کی بیوی زونا کا کہنا ہے کہ ہم نے دروازہ نہیں کھولا۔ وہ اچانک لوہے کی گرل توڑنے کے بعد وہ کھڑکی کے اندر سے گھس گئے اور میری بیٹی ممتاز کو گھسیٹنے لگے۔ میں اور فریدہ نے اس کی ٹانگیں پکڑ لیں لیکن وہ بہت طاقتور تھے۔زونا کو اب بھی یاد ہے ، کہ اس کی بیٹی کس طرح رو رہی تھی اور سسک رہی تھی ۔ وہ کہتی ہیں کہ رات کے آخری لمحات میں وہ اسے لے کر چلے گئے۔یہ آخری بار تھا جب کسی نے ممتاز کے بارے میں دیکھا یا سنا تھا۔

فوری طور پر غلام محمد کو پیغام بھجوایا گیا۔ پیغام ان تک دیر سے پہنچا اور وہ ساتویں دن واپس پہنچ سکے اور فورا ایف آئی آردرج کروانے کے لئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ڈوڈا پہنچے۔ایف آئی آر میں انہوں نے دو مقامی ایس پی او کا نام لیاجو کاستی گڑھ میں تعینات مقامی فوج کے یونٹ میں مخبر کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ جیسے ہی وہ تھانے سے باہر نکلے، کچھ فوجی جوان انہیں سیدھے ڈوڈا ٹان کے پولیس لائنزمیں واقع ایک آرمی کمانڈر کے دفتر لے گئے۔غلام محمد بتاتے ہیں کہ آرمی یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر نے اپنے دوسرے انچارج سے کہا کہ وہ مجھے سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی)  ڈوڈا کے پاس لے جائیں ۔

وہاں ایک سکھ ایس پی تھا جو کشمیری زبان اچھی طرح سے بولتا تھا ۔ اس نے مجھے اس کیس کو واپس لینے کے بدلے چھ لاکھ روپے اور ملازمت کی پیش کش کی ، ۔ لیکن میں نے اس کی پیش کش کو مسترد کردیا اور اپنی بیٹی کی مردہ یا زندہ واپسی کا مطالبہ کیا۔ اس پر مجھے انہوںنے دھکے دے کر نکال دیا۔اس کے بعد سے ، تھانے میں درج اس مقدمے میں غریب ، بوڑھے کو اسٹیشن کے بے شمار چکر لگانا پڑے۔غلام محمد کہتے ہیں، جب بھی میں ان سے ملتا ، وہ مجھ سے گواہ لانے کو کہتے تھے۔ اس وقت صرف میری بیٹی اور اس کی والدہ موجود تھیں۔ گواہ کی تلاش کرنا کیا میرا کام ہے یا ان کا؟ممتاز کے لاپتا ہونے کے ایک سال بعد ، اس کی بڑی بہن 19 سالہ فریدہ اس صدمے کو برداشت نہ کر سکی اور دل کے دورے سے انتقال کر گئی ۔غلام محمد نے انصاف کے لئے جدوجہد جاری رکھی،

انہوں نے اغوا کے کچھ مہینوں بعد ہی اس معاملے کو جموں وکشمیر ریاستی انسانی حقوق کمیشن (جے کے ایس ایچ آر سی) ، سری نگر میںدائر کیا ، جہاں کچھ سماعتوں کے بعد کمیشن کے چیئرمین تبدیل ہوگئے اور یہ معاملہ وہیں روک دیا گیا۔ بعد ازان یہ کیس جموں کی کرائم برانچ منتقل ہوگیا، جہاں ایک بار پھر عہدیداروں نے ان سے گواہوں کے ساتھ آنے کو کہا۔ غلام محمد کہتے ہیں، اس کیس کی پیروی کے لئے مجھے جموں اور سری نگر کے سفر کے لئے اپنے مال مویشی بیچنا پڑے۔ میں اب بھی جو کچھ سننا چاہتا ہوںوہ یہ ہے کہ میری بیٹی مر چکی ہے یا زندہ ہے؟ ممتاز کے چھ بہن بھائیوںاور والدہ کو اب بھی یقین ہے کہ شاید ان کی بیٹی ابھی تک زندہ ہے۔ ، غلام محمد کہتے ہیں، میں اب بھی یہ چاہتا ہوں کہ اگر وہ مر چکی ہے تو وہ مجھے اس کی قبر دکھادیں ، تاکہ میں سکون سے مر توسکوں خالد شبیر

Leave a Reply