انسان کو زندگی میں دھچکے لگتے رہتے ہیں ، وہ دوبارہ بھی اٹھ کھڑا ہوتا ہے

بھارت کی سپریم کورٹ نے اترپردیش کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد اور رام مندر کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین پر مندر کی تعمیر اور مسلمانوں کو مسجد کے لیے متبادل جگہ دینے کا حکم دیا ہے۔۔۔۔۔مودی حکومت کا طاقت کا استعمال اور مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ ہے ۔۔۔۔مذہبی تعصب کو ہوا دی جا رہی ہے۔۔۔ مجھے تو پاکستان حکومت اور نہ ہی ہندوستانی حکومت سے کوئی شکوہ ہے۔۔ کیونکہ انکا تعلق مفادات سے ہے ۔۔۔یہ کسی مذہب کا احترام نہیں کرتے۔۔ انسانیت سے بہت دور مذہب کا صرف استعمال کر کے انسانیت کا قتل کرواتے ہیں۔۔۔

میں آج ان ہندو مذہب کے ماننے والوں اور تمام مذاہب کا احترام کرنے والوں سے پوچھ رہا ہوں ۔۔۔۔۔اگر آپکی یہ دلیل درست بھی مان لی جائے یہاں 550 سال پہلے رام مندر ہوا کرتا تھا یہاں رام کی جنم بھومی تھی۔۔۔۔ تو تمہاری انسانیت یہاں کیوں نہیں جاگتی اور محسوس کرتی محض تہتر برس قبل ریاست جموں کشمیر اقصائے تبتہا ایک الگ ریاست اور یہاں پہ بسنے والوں انسانوں کی اپنی ایک الگ پہچان تھی۔۔۔ جس پہ تم نے طاقت کے زور پہ خصوصی حثیت کو ختم کر کے قبضہ کر لیا۔۔ تمہاری سپریم کورٹ اسے الگ ریاست کیوں تسلیم نہیں کرتی کہاں ہے تمہارا سیکولر نظام

بھارتی پردھان منتری نریندر مودی نے کرتار پور بارڈر کھولنے پر پاکستانی پردھان منتری عمران خان نیازی کا جو دھنواد کیا تھا ۔۔۔۔۔یہی وجہ ہے مودی جی کی انسانیت جاگ اُٹھی۔۔ اور محسوس کر لیا واقعی انسانیت کا درد کیا ہوتا ہے۔۔۔ انہوں نے گزشتہ سو ایام سے اپنے ہی زیرِ کنٹرول گھروں میں محصور جموں کشمیر کے نہتے عوام اور انسانی حقوق کی پامالیاں کرتے ہوئے دنیا سے تمام رابطے کاٹ کر۔۔۔ الحاقی عامل بابا گیلانی کو خط لکھنے دیا ۔۔۔واہ کیا کہنے ۔۔

الحاقی عامل بابا گیلانی کے ساتھ لفظ حُریت پسند لگانا حُریت پسندوں کی توہین ہے۔۔ ۔۔۔ .حُریت پسند کا مطلب ہے آزادی پسند….‌ الحاقی عامل بابا گیلانی نے کوئی ایک دن تمام قابضین کو للکارا ہو…. کوئی ایک بیان جس میں انہوں نے پاک وہند سے آزادی کے لیے بات کی ہو…. کوئی ایک کاوش خالص انسانی بنیادوں پہ تمام انسانوں کی آزادی کی بات کی ……الحاقی عامل بابا نے مذہبی منافرت کو ہوا دیکر بہت لوگوں کے جذبات

اُبھارے اور نتیجہ قیتمی جانوں کا ضیاع انسانوں کی تقسیم …کٹتی.. گرتی لاشیں …. الحاقِ پاکستان کے پیر و مرشد عامل بابا علی گیلانی کو بالآخر مودی جی نے خط لکھنے کا وقت دے ہی دیا ۔۔۔انہوں نے شکریہ ادا کیا اِنکی ذاتی رائے.. وہ ٹرمپ کا شکریہ ادا کریں یا مودی کا ہمیں اس سے سروکار نہیں…. اب جو سوچنے کی بات ہے ..جو پیارے پاکستان کو پیغام ملا ہے شملہ معاہدہ ….تاشقند معاہدہ..

لاہور معاہدہ اور سے الگ ہو کر کنٹرول لائن کا الگ سے تعین کرنا چاہیے مطلب جو پاکستان کی جغرافیائی حدود ہیں خود کو وہاں تک محدود رکھنا چاہیے .. کیا پاکستان اس پہ عمل کرے گا۔۔۔۔ کیا عمران خان نیازی ایسا کر پائے گا ?

Leave a Reply